بنگلورو،28؍فروری(ایس او نیوز) کانگریس اعلیٰ کمان کو رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں کانگریس اور بی جے پی کی طرف سے ایک دوسرے پر کی جارہی الزام تراشیوں کے متعلق میڈیا کے سوال پر آج وزیر اعلیٰ سدرامیا سخت برہم ہوگئے۔ آج شہر کے کرناٹکا پاور کارپوریشن میں بجٹ جائزہ میٹنگ سے قبل اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران جب میڈیا کے نمائندوں نے یہ معاملہ اٹھایا تو وزیر اعلیٰ سخت برہم ہوگئے، اور کہاکہ آپ لوگوں کو یڈیورپا کے نام کو چپنے کے علاوہ کچھ کام ہے بھی کہ نہیں؟۔ سابق وزیراعلیٰ یڈیورپا کے خلاف فوجداری مقدمات کو دوبارہ پیروی کیلئے آگے بڑھانے کیلئے حکومت کی تیاریوں کے متعلق بھی وزیر اعلیٰ نے کوئی جواب نہیں دیا، اور کہاکہ اس سلسلے میں سوالات وزیر قانون سے کئے جائیں۔ اس مرحلے میں بجٹ کے تجزیہ کیلئے پہنچنے والے وزیر قانون جئے چندرا نے کہاکہ سابق وزیر اعلیٰ یڈیورپا کے خلاف مقدمات کے خلاف مقدمے میں حکومت کی نظر ثانی کی اپیل اور مبینہ ڈائری کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ نے یڈیورپا کے خلاف مقدمات کو کالعدم قرا ردیا ہے، ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں اس کا چیلنج کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یڈیورپا کے خلاف شکایت حکومت نے نہیں کی ہے ، کچھ لوگوں نے ان کے دور اقتدار میں عدالت سے رجوع کیا تھا، نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف جب یڈیورپا ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تو وہاں زیریں عدالت کے مقدمات پر کارروائی روک دی گئی۔ ریاستی حکومت اس سلسلے میں محض سی اے جی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کررہی ہے۔ کرناٹک تملناڈو سرحد پر میکے ڈاٹ علاقہ میں ڈیم کی تعمیر کے متعلق سوال پر جئے چندرا نے کہاکہ اس ڈیم کی تعمیر کو ترک کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس معاملے میں اگر وزیر اعظم بھی مداخلت کریں تو ریاستی حکومت اپنا موقف بدلنے والی نہیں ہے۔ تملناڈو کی سابق وزیراعلیٰ آنجہانی جئے للیتا کے خلاف شہر میں چلنے والے مقدمے کے اخراجات حکومت تملناڈو سے حاصل کرنے کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایاکہ اس سلسلے میں تمام تفصیلات یکجا کی جارہی ہیں، تاکہ اخراجات کی فہرست حکومت تملناڈو کو روانہ کرکے یہ رقم حاصل کی جاسکے۔